بیجنگ (نمائندہ خصوصی) چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے یومیہ پریس کانفرنس میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی تازہ ترین پیش رفت اور کامیابیوں کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے 2013 میں پہلی بار بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی تجویز پیش کیے جانے کے بعد سے چین نے گزشتہ 10 سال سے زیادہ عرصے کے دوران بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کو فروغ دینے کے لئے تمام فریقوں کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے اور یہ ایک کھلا ، جامع ، باہمی فائدہ مند اور جیت جیت تعاون پر مبنی مقبول بین الاقوامی عوامی تعاون کا پلیٹ فارم بن گیا ہے۔جمعرات کے روز ترجمان نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر 150 سے زائد ممالک اور 30 سے زائد بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون کی دستاویزات پر دستخط کیے ہیں۔ گزشتہ سال چین کی بی آر آئی میں شامل ممالک کے ساتھ سامان کی تجارت 19.5 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئی، جو 2.8 فیصد اضافہ ہے، اور کل درآمداور برآمد کے حجم کا 46.6 فیصد ہے، جو اس انیشی ایٹو کی تجویز کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔
کشادگی کبھی نہیں رکے گی اور تعاون اچھے مستقبل کی نوید لائے گا. چین بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کو اعلیٰ معیار اور اعلیٰ سطح تک ترقی دینے، دنیا کے تمام ممالک کی جدیدکاری کو فروغ دینے اور ایک زیادہ کھلی، جامع، باہم منسلک اور مشترکہ ترقی پر مبنی دنیا کی تعمیر کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔
Trending
- چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان ساتویں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا مشترکہ پریس اعلامیہ
- ہم لاطینی امریکی ممالک کے اندرونی معاملات میں کسی بھی بہانے بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتے ہیں، چینی وزارت خارجہ
- امریکی طرز کی بالادستی مکمل طور پر غنڈہ گردی کی سیاست میں تبدیل ہو چکی ہے، سی جی ٹی این سروے
- چینی صدر کی جانب سے چینی عوام کو نئے سال کی مبارکباد
- چائنا میڈیا گروپ کا “ سائنس آن ویلز” پروگرام پارک سکول کے ہونہار بچوں کے نام
- چین کے پندرھویں پانچ سالہ منصوبے کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد
- پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے، اس کی طرف کسی کو میلی آنکھ سے دیکھنے نہیں دیں گے، نواز شریف
- پاکستان عالمی اعتماد بحال کرنے میں کامیاب، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک مذاکرات مثبت رہے، وزیر خزانہ
- محمد رضوان کی ون ڈے کپتانی خطرے میں پڑ گئی
- ابھی تو گھر کے ڈھیروں کام پڑے ہیں؛ نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ کا انتقال کی افواہوں پر ردعمل