بیجنگ :چینی وزارت تجارت کے ترجمان نے نام نہاد سنکیانگ سے متعلق بل کی امریکی فہرست میں 29 چینی کمپنیوں کو شامل کرنے کے حوالے سےایک سوال کے جواب میں چین کا موقف واضح کیا۔بد ھ کے روز ترجمان نے کہا کہ حال ہی میں امریکہ نے 29 چینی کاروباری اداروں کو نام نہاد "ویغور جبری مشقت کے روک تھام ایکٹ” کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں۔ امریکہ نے”انسانی حقوق” کے نام پر غنڈہ گردی کی ہے۔ یہ معاشی جبر کی ایک عملی مثالی ہے۔ چین اس کی سختی سے مذمت اور مخالفت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین جبری مشقت کی مخالفت کرتا ہے اور سنکیانگ میں نام نہاد جبری مشقت کا سرے سے کوئی وجود نہیں۔ امریکہ نے ٹھوس ثبوت کے بغیر ملکی قانون کے مطابق چینی کاروباری اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں، صرف اس لئے کہ یہ ادارے سنکیانگ سے مواد خریدتے ہیں یا سنکیانگ سے ملازمین کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ امریکہ سنکیانگ کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق کو سنگین طور پر پامال کر رہا ہے ، متعلقہ کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات، اور عالمی سپلائی چین کے استحکام اور سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ ایسی غیر معقول کار روائیوں کو فوری طور پر بند کرے۔ چین اپنی کمپنیوں کے قانونی حقوق اور مفادات کی حفاظت کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے گا۔
Trending
- چین اور امریکہ کے درمیان فوجی رابطوں کو مؤثر بنانے پر اتفاق
- تائیوان کے مشرق میں سمندری حد بندی سے متعلق مذاکرات میں چین کی شرکت ناگزیر ہے، چینی وزارت خارجہ
- چین کا ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کو ہنگامی انسانی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ
- عالمی برادری کو جاپان کے حالیہ غلط بیانات اور اقدامات پرانتہائی چوکس رہنا ہوگا، چینی وزارت خارجہ
- جب لوگ پیٹرول پمپ پر بے بس ہو جائیں، دنیا خاموشی سے نئی پٹڑی پر منتقل ہو رہی ہوتی ہے
- چین اور روس کو بڑے منصوبوں کے عملی نفاذ کو یقینی بنانا چاہیے، چینی عہدیدار
- چائنا کوسٹ گارڈز کا جزیرہ تائیوان کے مشرق میں علاقائی پانیوں میں قانون کے نفاذ کا گشت
- قانون کی حکمرانی پر شی جن پھنگ کی منتخب تحریریں کی جِلد اول کا انگریزی ایڈیشن شائع
- جاپان کی جانب سے نئی ”انڈو پیسیفک حکمت عملی“ پر عالمی مبصرین کی تشویش
- چین، سدرن تھیٹر کمانڈ کا ہوانگ یئن جزیرے کے علاقائی پانیوں اور فضائی حدود میں جنگی تیاریوں پر مبنی گشت