بیجنگ (نمائندہ خصوصی) چین کی نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد شمار کے مطابق 2024 کے اختتام تک چین میں پون بجلی کی صلاحیت 510 ملین کلو واٹ جبکہ شمسی توانائی کی صلاحیت 840 ملین کلو واٹ رہی، جن کے استعمال کی شرح 95 فیصد سے زیادہ ہے۔ چین کی نئی توانائی کی صنعت تیز رفتار ترقی کر رہی ہے جس میں اوسط سالانہ ڈبل ڈیجٹ کا اضافہ ہو رہا ہے۔ نئی توانائی کی سالانہ صلاحیت میں اضافہ دنیا کے کل حجم کا 40 فیصد سے زیادہ ہے جو عالمی سبز ترقی کو مسلسل تحرک فراہم کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں نئی توانائی کی صلاحیت کی ترقی کے ساتھ چین کی نئی توانائی کے اعلی تناسب کے استعمال کا اچھا رجحان رہا۔ پون بجلی اور فوٹو وولٹک بجلی کی پیداوار کی استعمال کی اوسطً شرح 95 فیصد سے زیادہ برقرار ہے، جو فرسٹ عالمی معیار کی سطح پر ہے. 2023 میں چین کی پون بجلی کے استعمال کی شرح 97.3 فیصد جبکہ شمسی توانائی کے استعمال کی شرح 98 فیصد رہی، ہوا اور شمسی توانائی کی پیداوار 1.43 ٹریلین کلو واٹ گھنٹے رہی، جو بجلی کے استعمال کے حجم کا 15.8 فیصد ہے، اور یہ عالمی اوسط سطح سے بلند ہے
Trending
- چین اور امریکہ کے درمیان فوجی رابطوں کو مؤثر بنانے پر اتفاق
- تائیوان کے مشرق میں سمندری حد بندی سے متعلق مذاکرات میں چین کی شرکت ناگزیر ہے، چینی وزارت خارجہ
- چین کا ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کو ہنگامی انسانی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ
- عالمی برادری کو جاپان کے حالیہ غلط بیانات اور اقدامات پرانتہائی چوکس رہنا ہوگا، چینی وزارت خارجہ
- جب لوگ پیٹرول پمپ پر بے بس ہو جائیں، دنیا خاموشی سے نئی پٹڑی پر منتقل ہو رہی ہوتی ہے
- چین اور روس کو بڑے منصوبوں کے عملی نفاذ کو یقینی بنانا چاہیے، چینی عہدیدار
- چائنا کوسٹ گارڈز کا جزیرہ تائیوان کے مشرق میں علاقائی پانیوں میں قانون کے نفاذ کا گشت
- قانون کی حکمرانی پر شی جن پھنگ کی منتخب تحریریں کی جِلد اول کا انگریزی ایڈیشن شائع
- جاپان کی جانب سے نئی ”انڈو پیسیفک حکمت عملی“ پر عالمی مبصرین کی تشویش
- چین، سدرن تھیٹر کمانڈ کا ہوانگ یئن جزیرے کے علاقائی پانیوں اور فضائی حدود میں جنگی تیاریوں پر مبنی گشت