بیجنگ (نمائندہ خصوصی) چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جئین نے ایک یومیہ پریس کانفرنس میں تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تائیوان میں کوئی “وزارت دفاع” نہیں ہے۔ امریکہ اور تائیوان کے درمیان فوجی تعلقات اور امریکہ کے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کی سخت مخالفت پر چین کا موقف مستقل اور واضح ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایک چین کے اصول اور تین چین-امریکہ مشترکہ اعلامیہ، خاص طور پر “17 اگست” کے اعلامیے کی دفعات کی پابندی کرے، تائیوان کو مسلح کرنا بند کرے، اور “تائیوان کی علیحدگی ” کی حمایت بند کرے۔ ترجمان نے کہا کہ تائیوان کے حکام کی جانب سے علیحدگی کے حصول کے لیےفوجی طاقت کے استعمال اور بیرونی ممالک پر انحصار کی کوششوں کا کامیاب ہونا ناممکن ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین اپنی قومی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا مضبوطی سے دفاع جاری رکھے گا
Trending
- چین اور امریکہ کے درمیان فوجی رابطوں کو مؤثر بنانے پر اتفاق
- تائیوان کے مشرق میں سمندری حد بندی سے متعلق مذاکرات میں چین کی شرکت ناگزیر ہے، چینی وزارت خارجہ
- چین کا ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کو ہنگامی انسانی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ
- عالمی برادری کو جاپان کے حالیہ غلط بیانات اور اقدامات پرانتہائی چوکس رہنا ہوگا، چینی وزارت خارجہ
- جب لوگ پیٹرول پمپ پر بے بس ہو جائیں، دنیا خاموشی سے نئی پٹڑی پر منتقل ہو رہی ہوتی ہے
- چین اور روس کو بڑے منصوبوں کے عملی نفاذ کو یقینی بنانا چاہیے، چینی عہدیدار
- چائنا کوسٹ گارڈز کا جزیرہ تائیوان کے مشرق میں علاقائی پانیوں میں قانون کے نفاذ کا گشت
- قانون کی حکمرانی پر شی جن پھنگ کی منتخب تحریریں کی جِلد اول کا انگریزی ایڈیشن شائع
- جاپان کی جانب سے نئی ”انڈو پیسیفک حکمت عملی“ پر عالمی مبصرین کی تشویش
- چین، سدرن تھیٹر کمانڈ کا ہوانگ یئن جزیرے کے علاقائی پانیوں اور فضائی حدود میں جنگی تیاریوں پر مبنی گشت