چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے جاپانی وزیراعظم فومیو کیشیدا کی جانب سے اسی روز لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر کے نام پر یاسوکونی مزار کو عبادت کے لئے پیش کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یاسوکونی مزار بیرونی ممالک کے خلاف جارحیت کی جنگ شروع کرنے میں جاپان کی عسکریت پسندی کی روح اور علامت ہے جس میں دوسری جنگ عظیم کے پہلے درجے کےجنگی مجرموں کو رکھا گیا ہے۔ یاسوکونی مزار کے معاملے پر جاپان کے بعض سیاستدانوں کے اقدامات ایک بار پھر تاریخی حوالے سے جاپان کے غلط رویے کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین نے جاپان پر اس حؤالے سے اپنا سنجیدہ موقف واضح کیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ جارحیت کی تاریخ کا صحیح معنوں میں سمجھنا، اس پر غور کرنا اور اس سے سبق سیکھنا "جاپان کے لئے دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنے ایشیائی ہمسایوں کے ساتھ دوستانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات قائم کرنے اور فروغ دینے کے لئے اہم شرط ہے۔ چین نے جاپان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی جارحیت کی تاریخ سے سبق سیکھنے کے حوالے سے اپنے بیانات اور وعدوں کی پاسداری کرے، پرامن ترقی کے راستے پر قائم رہے اور اپنے ایشیائی ہمسایوں اور بین الاقوامی برادری کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔
Trending
- پاکستان بین الاقوامی معاملات میں چین کے مستحکم کردار کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پاکستانی وزیر خارجہ
- جاپان کا ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس دوبارہ فعال ہو گیا ہے اور تیزی سے کام کر رہا ہے، چینی وزارت خارجہ
- جاپان اور فلپائن کے نام نہاد ” سمندری حد بندی مذاکرات“ غیر قانونی ہیں ، چینی وزارت خارجہ
- تمام ممالک اپنی ترقیاتی راہ کا آزادانہ انتخاب کرنے کا حق رکھتے ہیں، چینی وزیر خارجہ
- چین رواں سال ”شیونگ آن گلوبل گورننس فورم“ کا انعقاد کرے گا، چینی وزیر خارجہ
- وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کا حالیہ دورۂ چین انتہائی کامیاب رہا، چینی وزیر خارجہ
- چین کا جنوبی ایشیائی ممالک میں کئی منصوبے شروع کر نے کا اعلان
- چین۔پاکستان تعلقات ایک نئی اسٹریٹجک سطح پر پہنچ چکے ہیں، چینی میڈیا
- ”تائیوان کی علیحدگی“ کا راستہ بند گلی کی جانب لے جاتا ہے، چینی وزارتِ دفاع
- محصولات کا مسئلہ ہمیشہ چین اورامریکہ کے تجارتی تعلقات کا ایک اہم مسئلہ رہا ہے، چینی وزارتِ تجارت