چینی وزارت قومی دفاع کے ترجمان سینئر کرنل زانگ شیاؤگانگ نے کہا ہے کہ چین کا ہمیشہ سے یہ ماننا ہے کہ ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون میں تیسرے فریق کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے اور اس سے علاقائی امن و استحکام کو نقصان بھی نہیں پہنچانا چاہیے۔ جمعہ کے روز انہوں نے زور دے کر کہا کہ چین کو جنوبی بحیرہ چین کے جزائر اور ملحقہ پانیوں پر ناقابل تردید خودمختاری حاصل ہے اور دانستہ ان حقوق کی خلاف ورزی ہونے پر ہم قانون کے مطابق حقوق کا تحفظ کریں گے،غیر معقول اشتعال پھیلانے والوں پر معقول جوابی حملہ کریں گے اور اپنی علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق اور مفادات کا مضبوط دفاع کریں گے۔وا ضح رہے کہ حال ہی میں، امریکہ نے فلپائن کے لیے 500 ملین امریکی ڈالر کے فوجی امداد کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ فلپائن کو چینی کوسٹ گارڈ اور "میری ٹائم ملیشیا” سے نمٹنے میں مدد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ جاپان نے حال ہی میں فلپائن کے ساتھ "خصوصی اقتصادی زون” میں مشترکہ فوجی مشقیں بھی کیں۔
Trending
- چین۔پاکستان تعلقات ایک نئی اسٹریٹجک سطح پر پہنچ چکے ہیں، چینی میڈیا
- ”تائیوان کی علیحدگی“ کا راستہ بند گلی کی جانب لے جاتا ہے، چینی وزارتِ دفاع
- محصولات کا مسئلہ ہمیشہ چین اورامریکہ کے تجارتی تعلقات کا ایک اہم مسئلہ رہا ہے، چینی وزارتِ تجارت
- یورپی فریق کو چین-یورپ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو غیر جانب دارانہ انداز میں دیکھنا چاہیے، چینی وزارت خارجہ
- چین اور پاکستان کی افواج کے درمیان قریبی تعلقات ہیں ، چینی وزارت دفاع
- چین اور امریکہ کے تعلقات دو طرفہ تعلقات کے دائرے سے زیادہ اہم ہیں، چینی وزیر خارجہ
- چین-امریکہ دوستی کی کہانیاں عوام لکھتے ہیں، چینی صدر
- چین اور سورینام کے درمیان دوستی کی ایک طویل تاریخ ہے، چینی صدر
- چین اور آسٹریا کے تعلقات نے مستحکم ترقی کو برقرار رکھا ہے، چینی صدر
- چین سربیا کے درمیان تعاون کو نئی محرک قوت ملی ہے، چینی میڈیا