چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں چین کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں امریکی صدر جو بائیڈن کے بیان کے حوالے سے سوال کا جواب دیا۔ بدھ کے روز ترجمان نے کہا کہ حقائق پوری طرح ثابت کرتے ہیں کہ امریکہ حالیہ برسوں میں مسلسل نام نہاد "چین جوہری خطرے کے نظریے” پر زور دے رہا ہے، جس کا مقصد جوہری تخفیف اسلحہ کی اپنی ذمہ داری سے بچنا ،تزویراتی فائدہ حاصل کرنا اور اس آڑ میں اپنے جوہری ہتھیاروں کو بڑھانا ہے ۔
ماؤ ننگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین جوہری ہتھیاروں کا پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اپنے دفاع اور دفاعی جوہری حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، ہمیشہ اپنی جوہری طاقت کو قومی سلامتی کے لیے درکار کم ترین سطح پر رکھتا ہے، اور کسی بھی ملک کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ دوسری جانب امریکہ، جس کے پاس سب سے بڑے اور جدید ترین جوہری ہتھیار موجود ہیں، "جوہری ہتھیاروں کے پہلے استعمال” پر مبنی جوہری ڈیٹرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے، اپنی جوہری طاقت کو اپ گریڈ کرنے میں بھاری سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے، اور کھلے عام دوسرے ممالک کے لئے جوہری ڈیٹرنس حکمت عملی تیار کرتا ہے۔ یہ امریکہ ہی ہے جو جوہری خطرات کے لئے دنیا کے سب سے بڑے اسٹریٹجک خطرے کا خالق ہے۔
Trending
- شائقین کرکٹ کے لیے خوشخبری، آئی ایل ٹی 20 کے ٹکٹوں کی فروخت شروع
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز