بیجنگ (نمائندہ خصوصی) انٹرنیشنل فیڈریشن آف روبوٹکس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق چین کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں روبوٹس کی ایپلی کیشن کی رفتار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ چین میں صنعتی روبوٹس کی کثافت گزشتہ چار سالوں میں دگنی ہو چکی ہے، اور 2023 میں دنیا میں تیسرے نمبر پر آ گئی ہے۔روبوٹکس کثافت سے مراد صنعتی روبوٹس کی تعداد اور ملازمین کی تعداد کا تناسب ہے ، جو مختلف ممالک میں مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں آٹومیشن کی سطح کی تصدیق کرنے کے لئے ایک مؤثر اشارہ ہے۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف روبوٹکس کی جانب سے جاری کردہ 2024 کی ورلڈ روبوٹکس رپورٹ کے مطابق،2023 میں عالمی اوسط روبوٹ کثافت ایک نئی بلند سطح پر پہنچ گئی ، جو فی 10ہزار ملازمین پر 162 روبوٹس تک جا پہنچی ،جو سات سال پہلے کے مقابلے میں دگنی ہے۔ اس اعتبار سے چین جرمنی اور جاپان کو پیچھے چھوڑ تے ہوئے دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے
Trending
- شائقین کرکٹ کے لیے خوشخبری، آئی ایل ٹی 20 کے ٹکٹوں کی فروخت شروع
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز