بیجنگ (نمائندہ خصوصی) لیتھوانیا کی وزارت خارجہ نے بلاجواز لیتھوانیا میں چینی ناظم الامور کے متعلقہ سفارت کاروں کو “ناپسندیدہ شخص” قرار دے کر مقررہ مدت کے اندر ملک چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔ چین اس گھناؤنے اور اشتعال انگیز اقدام کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ ہر ایک جانتا ہے کہ تائیوان کے معاملے پر لیتھوانیا نے ایک چین کے اصول اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام سے متعلق اعلامیے میں کیے گئے سیاسی وعدوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے جس کے باعث چین لیتھوانیا تعلقات میں شدید مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ چین لیتھوانیا کے خلاف جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ امید ہے کہ لیتھوانیا کی نئی حکومت ایک چین کے اصول پر صحیح معنوں میں عمل کرے گی اور چین لیتھوانیا تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرےگی۔
Trending
- وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کا حالیہ دورۂ چین انتہائی کامیاب رہا، چینی وزیر خارجہ
- چین۔پاکستان تعلقات ایک نئی اسٹریٹجک سطح پر پہنچ چکے ہیں، چینی میڈیا
- ”تائیوان کی علیحدگی“ کا راستہ بند گلی کی جانب لے جاتا ہے، چینی وزارتِ دفاع
- محصولات کا مسئلہ ہمیشہ چین اورامریکہ کے تجارتی تعلقات کا ایک اہم مسئلہ رہا ہے، چینی وزارتِ تجارت
- یورپی فریق کو چین-یورپ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو غیر جانب دارانہ انداز میں دیکھنا چاہیے، چینی وزارت خارجہ
- چین اور پاکستان کی افواج کے درمیان قریبی تعلقات ہیں ، چینی وزارت دفاع
- چین اور امریکہ کے تعلقات دو طرفہ تعلقات کے دائرے سے زیادہ اہم ہیں، چینی وزیر خارجہ
- چین-امریکہ دوستی کی کہانیاں عوام لکھتے ہیں، چینی صدر
- چین اور سورینام کے درمیان دوستی کی ایک طویل تاریخ ہے، چینی صدر
- چین اور آسٹریا کے تعلقات نے مستحکم ترقی کو برقرار رکھا ہے، چینی صدر