بیجنگ (نمائندہ خصوصی) لیتھوانیا کی وزارت خارجہ نے بلاجواز لیتھوانیا میں چینی ناظم الامور کے متعلقہ سفارت کاروں کو “ناپسندیدہ شخص” قرار دے کر مقررہ مدت کے اندر ملک چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔ چین اس گھناؤنے اور اشتعال انگیز اقدام کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ ہر ایک جانتا ہے کہ تائیوان کے معاملے پر لیتھوانیا نے ایک چین کے اصول اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام سے متعلق اعلامیے میں کیے گئے سیاسی وعدوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے جس کے باعث چین لیتھوانیا تعلقات میں شدید مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ چین لیتھوانیا کے خلاف جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ امید ہے کہ لیتھوانیا کی نئی حکومت ایک چین کے اصول پر صحیح معنوں میں عمل کرے گی اور چین لیتھوانیا تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرےگی۔
Trending
- چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان ساتویں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا مشترکہ پریس اعلامیہ
- ہم لاطینی امریکی ممالک کے اندرونی معاملات میں کسی بھی بہانے بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتے ہیں، چینی وزارت خارجہ
- امریکی طرز کی بالادستی مکمل طور پر غنڈہ گردی کی سیاست میں تبدیل ہو چکی ہے، سی جی ٹی این سروے
- چینی صدر کی جانب سے چینی عوام کو نئے سال کی مبارکباد
- چائنا میڈیا گروپ کا “ سائنس آن ویلز” پروگرام پارک سکول کے ہونہار بچوں کے نام
- چین کے پندرھویں پانچ سالہ منصوبے کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد
- پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے، اس کی طرف کسی کو میلی آنکھ سے دیکھنے نہیں دیں گے، نواز شریف
- پاکستان عالمی اعتماد بحال کرنے میں کامیاب، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک مذاکرات مثبت رہے، وزیر خزانہ
- محمد رضوان کی ون ڈے کپتانی خطرے میں پڑ گئی
- ابھی تو گھر کے ڈھیروں کام پڑے ہیں؛ نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ کا انتقال کی افواہوں پر ردعمل