بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماو ننگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں تائیوان کے معاملے پر کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 1971 کی قرارداد نمبر 2758 میں واضح کیا گیا ہے کہ دنیا میں صرف ایک چین ہے اور تائیوان ایک ملک نہیں بلکہ چین کا حصہ ہے۔قرارداد میں یہ بھی واضح ہے کہ اقوام متحدہ میں چین کی صرف ایک نشست ہے ۔ اس قرارداد کی دفعات کی پابندی کرنے کے لیے، اقوام متحدہ اور اس کی خصوصی ایجنسیاں تائیوان کا حوالہ دیتے وقت “چین کا صوبہ تائیوان” کی اصطلاح استعمال کرتی ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ کے دفتر برائے قانونی امور کی سرکاری قانونی رائے واضح طور پر بتاتی ہے کہ چین کے صوبے کے طور پر تائیوان کی آزاد حیثیت نہیں ہے اور یہ اقوام متحدہ کا مستقل موقف ہے۔پیر کے روزترجمان نے کہا کہ تائیوان کے معاملے پر چین کا موقف مستقل اور واضح ہے۔ ہم ہمیشہ ایک چین کے اصول اور 1992 کے اتفاق رائے پر قائم رہے ہیں، اور چین کی پرامن وحدت کے لیے بھرپور اخلاص کے ساتھ کوششیں کرنے کو تیار ہیں۔ترجمان نے کہا کہ ان کوششوں کے ساتھ چین قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا اور “تائیوان کی علیحدگی اور بیرونی قوتوں کی مداخلت کی سخت مخالفت کرے گا۔
Trending
- چین کا ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کو ہنگامی انسانی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ
- عالمی برادری کو جاپان کے حالیہ غلط بیانات اور اقدامات پرانتہائی چوکس رہنا ہوگا، چینی وزارت خارجہ
- جب لوگ پیٹرول پمپ پر بے بس ہو جائیں، دنیا خاموشی سے نئی پٹڑی پر منتقل ہو رہی ہوتی ہے
- چین اور روس کو بڑے منصوبوں کے عملی نفاذ کو یقینی بنانا چاہیے، چینی عہدیدار
- چائنا کوسٹ گارڈز کا جزیرہ تائیوان کے مشرق میں علاقائی پانیوں میں قانون کے نفاذ کا گشت
- قانون کی حکمرانی پر شی جن پھنگ کی منتخب تحریریں کی جِلد اول کا انگریزی ایڈیشن شائع
- جاپان کی جانب سے نئی ”انڈو پیسیفک حکمت عملی“ پر عالمی مبصرین کی تشویش
- چین، سدرن تھیٹر کمانڈ کا ہوانگ یئن جزیرے کے علاقائی پانیوں اور فضائی حدود میں جنگی تیاریوں پر مبنی گشت
- چین کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کا مجموعی آپریشن مئی میں مستحکم رہا
- مستقبل کی صنعتوں کی ترقی میں عمدہ رجحان دیکھنے میں آیا ہے، چینی صدر