بیجنگ (نمائندہ خصوصی) جاپانی اور امریکی وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع نے ٹوکیو میں "توسیع شدہ ڈیٹرنس” کے بارے میں پہلی وزارتی میٹنگ منعقد کی۔ امریکی وزیر دفاع آسٹن نے اس بات پر زور دیا کہ "توسیع شدہ ڈیٹرنس” امریکہ اور جاپان کے اتحاد کا مرکز ہے ۔ منگل کے روز اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ چین نے متعلقہ رپورٹس کا نوٹس لیا ہے اور ان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چین جوہری ہتھیاروں کو پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اپنے دفاع کی جوہری حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، ہمیشہ اپنی جوہری قوتوں کو قومی سلامتی کے لیے لازماً کم سے کم سطح پر برقرار رکھتا ہے، اور کسی کے مقابلے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہوتا ہے۔ جب تک کوئی بھی ملک چین کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال یا استعمال کرنے کی دھمکی نہیں دیتا، اسے چین کے جوہری ہتھیاروں سے خطرہ نہیں ہوگا۔
"توسیع شدہ ڈیٹرنس” سرد جنگ کی پیداوار ہے جس کا مقصد امریکہ اور جاپان کے درمیان جوہری ڈیٹرنس تعاون کو مضبوط کرنا ہے۔اس سے علاقائی کشیدگی کو ہوا ملے گی اور جوہری پھیلاؤ اور جوہری تصادم کے خطرے کو بڑھاوا ملے گا۔
چین ، امریکہ اور جاپان کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ سرد جنگ کی ذہنیت کو ترک کریں، قومی اور اجتماعی سلامتی کی پالیسیوں میں جوہری ہتھیاروں کے کردار کو مؤثر طریقے سے کم کریں، اور تزویراتی استحکام کو فروغ دینے اور علاقائی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
Trending
- شائقین کرکٹ کے لیے خوشخبری، آئی ایل ٹی 20 کے ٹکٹوں کی فروخت شروع
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز