سیئول :جنوبی کوریا کی حکومت نے صدر لی جے میونگ کی زیرِ صدارت کابینہ کے اجلاس میں "فوجداری عدالتی قانون” میں ترمیم کی منظوری دی، جس کے تحت پراسیکیوٹرز کے براہِ راست تفتیش اور اضافی تحقیقات کے اختیارات مکمل طور پر ختم کر دیے گئے ہیں۔ اس اقدام کو جنوبی کوریا کے 70 سال سے زائد پرانے فوجداری عدالتی نظام میں ایک بڑی اصلاح قرار دیا جا رہا ہے۔ترمیم شدہ قانون اور متعلقہ ضوابط کے مطابق، پراسیکیوٹرز اب مقدمات کی نشاندہی، براہِ راست تفتیش، ملزمان سے پوچھ گچھ اور شواہد جمع کرنے کے اختیارات نہیں رکھیں گے۔ ان کا کردار صرف مقدمات درج کرنے، عدالت میں استغاثہ پیش کرنے اور ضرورت پڑنے پر پولیس سے مزید تفتیش کی درخواست کرنے تک محدود ہوگا۔ قانون کے تحت جنوبی کوریا کے موجودہ پراسیکیوٹر آفس کو ختم کر کے اس کی جگہ ایک نیا پبلک پراسیکیوشن آفس قائم کیا جائے گا۔ تمام فوجداری مقدمات کی بنیادی تفتیش پولیس، سیرس کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی اورکارپشن انویسٹی گیشن آفس فار ہائی رینکنگ آفیشلز انجام دیں گے۔ یہ ترمیم اور متعلقہ قوانین 2 اکتوبر سے باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوں گے۔
Trending
- شائقین کرکٹ کے لیے خوشخبری، آئی ایل ٹی 20 کے ٹکٹوں کی فروخت شروع
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز