ٹوکیو: جاپان کی جانب سے حال ہی میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، جاپانی وزارت دفاع مصنوعی ذہانت کے نظام سے لیس مصنوعی سیارچے تیار کرے گی۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی جنگی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور نام نہاد "جوابی کارروائی کی صلاحیت” کو بھی تقویت ملے گی۔ جاپانی میڈیا کی جانب کہا جا رہا ہے کہ جاپانی حکومت کا فوجی مقاصد کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال متعارف کرانا "ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال” کا باعث بن سکتا ہے، جو جاپان کے "خاص دفاعی” اصول کے منافی ہے۔جاپانی اخبار "ٹوکیو شمبون” نے 5 ستمبر کو اپنے اداریے میں کہا کہ امریکہ کے ایران پر حملے اور اسرائیل کی غزہ کی پٹی پر فضائی حملوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو نشانات کی شناخت اور پوزیشننگ کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس سے پہلے یہ اطلاعات بھی ہیں کہ امریکی فوج کے اے آئی سسٹم کی غلط پوزیشننگ کے باعث ایران کے شہر میناب کے ایک پرائمری اسکول پر بمباری ہوئی جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔مضمون میں نشاندہی کی گئی کہ "خاص دفاعی” اصول کا مطلب یہ ہے کہ صرف اس وقت اپنے دفاع کا انتہائی محدود” استعمال کیا جا سکتا ہے جب دوسری جانب سے مسلح حملہ کیا جائے۔ تاہم، جب مصنوعی ذہانت کو اہداف کی نشاندہی کے لیے استعمال کرتے ہوئے دوسری جانب بڑے پیمانے پر میزائل حملے کیے جائیں گے ، تو اسے نتہائی محدود” نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ہرگز قابلِ قبول نہیں کہ کسی ملک کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہریوں پر حملہ کرنے کی اجازت دی جائے۔
Trending
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز
- چین اور یورپ کے درمیان تجارتی مشاورت کا مقصد اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنا ہے، چینی وزارت تجارت