بین الاقوامی شخصیات کا کہنا ہے کہ صدر شی جن پھنگ کا امریکہ کا سرکاری دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ پہنچنے پر ان کا تحریری بیان انتہائی حوصلہ افزا ہے۔ امید ہے کہ چین اور امریکہ کے سربراہانِ مملکت کی سفارت کاری کی اسٹریٹجک رہنمائی کے تحت دونوں ممالک روابط کو مضبوط کریں گے، مثبت انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے، عوام کی فلاح و بہبود میں اضافہ کریں گے اور دنیا میں امن کی نئی امیدیں پیدا کریں گے۔
امریکی اسکالر اور وینژو کین یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر مارجریسن کا کہنا ہے کہ صدر شی جن پھنگ نے اپنے تحریری بیان میں واضح کیا ہے کہ امریکہ اور چین کو ایک ہی سمت میں مل کر آگے بڑھنا چاہیے۔مارجریسن نے کہا کہ وہ اس بات سے مکمل اتفاق کرتے ہیں ۔ امریکہ اور چین کی معیشتیں ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہیں اور باہم مربوط ہیں۔ فریقین کے درمیان مسابقت تو موجود رہے گی، لیکن اختلافات کو مناسب انداز میں سنبھالا جا سکتا ہے اور ساتھ مل کر آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ طویل مدتی تناظر میں، یہ دونوں فریقوں کی ترقی کے لیے فائدہ مند ہے۔
Trending
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز
- چین اور یورپ کے درمیان تجارتی مشاورت کا مقصد اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنا ہے، چینی وزارت تجارت