ایک عالمی سروے میں 90 فیصد جواب دہندگان نے یاسوکونی شرائن کو "جنگی مجرموں کا مزار” قرار دے دیا،چینی میڈیا

0


بیجنگ :عالمی برادری نے جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائچی کی جانب سے یاسوکونی شرائن میں نذرانے پیش کرنے اور وزیر برائے اقتصادی و مالیاتی پالیسی کی جانب سے وہاں حاضری دینے جیسے اقدامات کی وسیع پیمانے پر مذمت کی ہے۔ چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے کیے گئے ایک عالمی سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ 90.71 فیصد جواب دہندگان نے مطالبہ کیا کہ یاسوکونی شرائن سے متعلق خبریں دیتے وقت بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو "جنگی مجرموں کا مزار” کی اصطلاح زیادہ واضح طور پر استعمال کرنی چاہیے، تاکہ دنیا جاپانی عسکریت پسندی کے دوبارہ سر اٹھانے کے خطرے سے ہوشیار رہے۔نام نہاد یاسوکونی شرائن جاپانی عسکریت پسندی کا نظریاتی آلہ اور علامت ہے، جہاں جارحانہ جنگ کے براہِ راست ذمہ دار 14 اے کلاس جنگی مجرموں کی یادگاریں موجود ہیں۔ سروے میں 88.53 فیصد جواب دہندگان کا خیال تھا کہ یہ اقدام جارحیت کی تاریخ کو خوب صورت بنا کر پیش کرنے اور جنگی جرائم کے ذمہ داروں کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش ہے۔ 87.38 فیصد جواب دہندگان نے واضح طور پر کہا کہ سانائے تاکائچی سمیت جاپانی سیاست دانوں کے یہ غلط اقدامات ان ہمسایہ ممالک کے عوام کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچاتے ہیں جو ماضی میں جاپانی عسکریت پسندی کا نشانہ بنے تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.