چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا ہے کہ نئی توانائی کی صنعت کی تیز رفتار ترقی کی بدولت چین دنیا میں انرجی انٹینسٹی میں تیزی سے کمی والے ممالک میں سے ایک بن گیا ہے اور اس نے دنیا کی سب سے بڑی اور مکمل نئی توانائی کی صنعتی چین بھی بنائی ہے جو دنیا کے لیے 70 فیصد فوٹووولٹک ماڈیولز اور 60 فیصد ونڈ پاور آلات اور عالمی توانائی کی تبدیلی اور پائیدار ترقی کے لیے اہم محرک قوت فراہم کرتی ہے۔
ترجمان نے خاص طور پر ذکر کیا ہے کہ چین کی نئی توانائی کی مصنوعات نے "گلوبل ساؤتھ” ممالک کی سبز تبدیلی میں مؤثر کردار ادا کیا ہے اور مقامی لوگوں کے معیار زندگی کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔
ماؤ ننگ کا کہنا تھا کہ چین اپنی سبز ترقی کو فروغ دیتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور عالمی ماحولیاتی حکمرانی کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ کچھ ممالک کا چین کی سبز صنعت کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرنا ، آب و ہوا کی تبدیلی سے نمٹنے کی عالمی کوششوں کے لئے سازگار نہیں ہے کیوں کہ دنیا کو ماحول دوست ترقی میں رکاوٹوں کے بجائے تعاون کی ضرورت ہے۔وا ضح رہے کہ حال ہی میں کچھ غیر ملکی میڈیا نے اس حقیقت پر توجہ دی ہے کہ اس سال کی پہلی ششماہی میں چین کی صاف توانائی کی بجلی کی نئی پیداوار گزشتہ سال کے اسی عرصے میں برطانیہ کی کل بجلی کی پیداوار کے برابر ہے اور ان کا خیال ہے کہ چین میں قابل تجدید توانائی کی تیز رفتار ترقی موسمیاتی تباہی سے بچنے کے لئے دنیا کی اب تک کی سب سے بڑی امید ہوسکتی ہے۔
Trending
- شائقین کرکٹ کے لیے خوشخبری، آئی ایل ٹی 20 کے ٹکٹوں کی فروخت شروع
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز