بیجنگ (نمائندہ خصوصی) چین کی وزارت خارجہ نے امریکی ملٹری انڈسٹریل انٹرپرائزز اور سینئر مینیجرز کے خلاف جوابی اقدامات کرنے کا فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے حال ہی میں ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ وہ چین کے تائیوان علاقے کو ہتھیار فروخت کرے گا، جس نے ایک چین کے اصول اور تین چین-امریکہ مشترکہ اعلامیوں کی سنگین خلاف ورزی کی، چین کے داخلی معاملات میں سنگین مداخلت کی اور چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو شدید نقصان پہنچایا۔ عوامی جمہوریہ چین کے انسداد غیر ملکی پابندیوں کے قانون کی متعلقہ شقوں کے مطابق، چین نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈائڈا براؤن انجینئرنگ کمپنی سمیت 13 امریکی اداروں کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں اور دیگر اقسام کی املاک کو منجمد کیا جائے گا۔چین کی حدود میں تنظیموں اور افراد کو ان کے ساتھ متعلقہ لین دین، تعاون اور دیگر سرگرمیوں کی ممانعت ہو گی۔ باربرا بورگونوئی (ریتھیون کمپنی کے نیول فورسز کے اسٹریٹجک بزنس یونٹ کی صدر)سمیت امریکی کمپنیوں کے 6 دیگر سینئر مینیجرز کی چین میں منقولہ جائیداد، غیر منقولہ جائیداد اور دیگر قسم کی املاک کو منجمد کیا جائے گا۔ چین کی حدود میں تنظیموں اور افراد کو ان کے ساتھ متعلقہ لین دین، تعاون اور دیگر سرگرمیوں کی ممانعت ہو گی ۔ انہیں ویزا جاری نہیں کیا جائے گا اور چین (بشمول ہانگ کانگ اور مکاؤ) میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔ اس فیصلے کا اطلاق 5 دسمبر 2024 سے ہوگا
Trending
- چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان ساتویں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا مشترکہ پریس اعلامیہ
- ہم لاطینی امریکی ممالک کے اندرونی معاملات میں کسی بھی بہانے بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتے ہیں، چینی وزارت خارجہ
- امریکی طرز کی بالادستی مکمل طور پر غنڈہ گردی کی سیاست میں تبدیل ہو چکی ہے، سی جی ٹی این سروے
- چینی صدر کی جانب سے چینی عوام کو نئے سال کی مبارکباد
- چائنا میڈیا گروپ کا “ سائنس آن ویلز” پروگرام پارک سکول کے ہونہار بچوں کے نام
- چین کے پندرھویں پانچ سالہ منصوبے کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد
- پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے، اس کی طرف کسی کو میلی آنکھ سے دیکھنے نہیں دیں گے، نواز شریف
- پاکستان عالمی اعتماد بحال کرنے میں کامیاب، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک مذاکرات مثبت رہے، وزیر خزانہ
- محمد رضوان کی ون ڈے کپتانی خطرے میں پڑ گئی
- ابھی تو گھر کے ڈھیروں کام پڑے ہیں؛ نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ کا انتقال کی افواہوں پر ردعمل