بیجنگ :چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے معمول کی پریس کانفرنس میں نام نہاد "بحیرۂ جنوبی چین ثالثی فیصلے” پر تبصرہ کیا۔ ترجمان نے کہا کہ چین متعدد مواقع پر واضح کر چکا ہے کہ نام نہاد "ثالثی فیصلہ” غیر قانونی، کالعدم اور کسی بھی قسم کی قانونی حیثیت یا پابندی کا حامل نہیں ہے۔ چین نہ اسے قبول کرتا ہے، نہ تسلیم کرتا ہے، اور نہ ہی اس نام نہاد فیصلے کی بنیاد پر کیے جانے والے کسی بھی دعوے یا اقدام کو قبول کرے گا۔انہوں نے کہا کہ "بحیرۂ جنوبی چین میں فریقین کے طرزِ عمل کے ضابطۂ کار” کی تیاری،”بحیرۂ جنوبی چین میں فریقین کے طرزِ عمل سے متعلق اعلامیے” پر عمل درآمد کا ایک اہم اقدام ہے اور یہ چین اور آسیان ممالک کے درمیان ایک اہم اتفاقِ رائے بھی ہے۔ماؤ ننگ نے کہا کہ چین ہمیشہ سے آسیان ممالک کے ساتھ مشاورت کے عمل کو تیز کرنے، جلد از جلد "ضابطۂ کار” پر اتفاقِ رائے تک پہنچنے اور مشترکہ طور پر بحیرۂ جنوبی چین میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے پرعزم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد "ثالثی فیصلے” کا "ضابطۂ کار” سے کوئی تعلق نہیں، لہٰذا فلپائن کو چاہیے کہ وہ اس نام نہاد فیصلے کو "ضابطۂ کار” کی تکمیل میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لیے استعمال نہ کرے۔
Trending
- شائقین کرکٹ کے لیے خوشخبری، آئی ایل ٹی 20 کے ٹکٹوں کی فروخت شروع
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز