بیجنگ : چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لِین جیئن نے معمول کی پریس بریفنگ میں بحیرۂ جنوبی چین سے متعلق نام نہاد ثالثی فیصلے کی دسویں برسی کے موقع پر بعض یورپی ممالک، امریکہ، فلپائن اور دیگر ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ بیانات پر ردِعمل کا اظہار کیا۔ترجمان نے کہا کہ متعدد یورپی ممالک، امریکہ، فلپائن اور یورپی یونین کے متعلقہ بیانات میں حقائق کو مسخ کیا گیا ہے، جس پر چین نے شدید عدم اطمینان اور سخت مخالفت کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نام نہاد "ثالثی ٹریبونل” کو سیاسی مقاصد کے تحت عجلت میں تشکیل دیا گیا تھا، جبکہ اس کا "ثالثی فیصلہ” بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔یہ محض چند مغربی ممالک کی جانب سے چین کو محدود کرنے کے سیاسی مقصد کے تحت پیش کیا گیا ایک ڈراما تھا۔لِین جیئن نے کہا کہ چین یورپی یونین پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے قول و فعل میں احتیاط سے کام لے، غیر قانونی "ثالثی فیصلے” کی توثیق سے باز رہے، اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو چین-یورپی یونین تعلقات اور باہمی تعاون کو متاثر کریں۔
Trending
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز
- چین اور یورپ کے درمیان تجارتی مشاورت کا مقصد اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنا ہے، چینی وزارت تجارت