منیلا : چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے منیلا میں مشرقی ایشیا تعاون کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے دوران بھارت، برازیل، بنگلہ دیش، برونائی، ویتنام اور پاپوا نیو گنی کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے درخواست پر فلپائن کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی۔بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کے دوران وانگ ای نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران دونوں ممالک کے رہنماؤں نے چین-بھارت تعلقات کو بہتری اور ترقی کی درست سمت میں آگے بڑھایا ہے۔ فریقین کی مشترکہ کوششوں سے دوطرفہ ادارہ جاتی روابط بتدریج بحال ہوئے ہیں، سرحدی علاقوں میں امن و سکون برقرار ہے اور دوطرفہ تجارت نئی بلندیوں تک پہنچی ہے۔ وانگ ای نے کہا کہ چین دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے پر عمل درآمد، حساس مسائل سے مناسب انداز میں نمٹانے، دونوں ممالک کے مختلف حلقوں اور عوام کے درمیان درست باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینے اور چین-بھارت تعلقات میں مسلسل نئی توانائی پیدا کرنے کے لیے بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ چین رواں سال برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کے سلسلے میں بھی بھارت کی حمایت جاری رکھے گا۔بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے ملاقات کے دوران وانگ ای نے کہا کہ چین ہمیشہ کی طرح بنگلہ دیشی حکومت کی ہموار طرز حکمرانی کی حمایت کرتا رہے گا۔ چین بنگلہ دیش کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے پر عمل درآمد، اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو فروغ دینے اور نئے دور میں چین-بنگلہ دیش ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔فلپائن کی وزیر خارجہ ماریا تھریسا لازارو سے ملاقات کے دوران وانگ ای نے فلپائنی اہلکاروں کی جانب سے حالیہ پرتشدد اقدامات پر شدید احتجاج کیا، جنہوں نے رن آئی ریف کے قریب چینی قانون نافذ کرنے والے جہازوں کو ٹکر ماری تھی۔ چینی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ چین-فلپائن تعلقات کی ترقی کے لیے درست سمت اختیار کرنا کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ چین کبھی بھی فلپائن کے لیے سکیورٹی خطرہ نہیں رہا، نہ ہی اس نے تاریخ میں فلپائن پر حملہ کیا اور نہ ہی اسے نوآبادیاتی تسلط کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ چین اور فلپائن کے درمیان علاقائی اور بحری حدود کے تنازعات کا وجود ایک معروضی حقیقت ہے۔ چین ہمیشہ بات چیت اور مشاورت کے ذریعے تنازعات کو مناسب انداز میں نمٹانے اور صورتحال کو مستحکم رکھنے کے لیے پرعزم رہا ہے۔وانگ ای نے کہا کہ فلپائن کو بحری امور پر اپنی اشتعال انگیز کارروائیاں فوری طور پر بند کرنی چاہئیں اور چین کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔
Trending
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز
- چین اور یورپ کے درمیان تجارتی مشاورت کا مقصد اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنا ہے، چینی وزارت تجارت