بشکیک : اسٹیٹ انٹرنیٹ انفارمیشن آفس کی جانب سے جاری کردہ "نیشنل انفارمیٹائزیشن ڈویلپمنٹ رپورٹ (2025)” کے مطابق، 2025 میں چین کی ڈیجیٹل معیشت کے بنیادی شعبوں کی اضافی قدر جی ڈی پی کے 10.5 فیصد سے زائد تک پہنچ گئی۔ اسی دوران چین کی ڈیجیٹل صنعت کی مجموعی آمدنی 39.6 ٹریلین یوان رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.8 فیصد زیادہ ہے۔چین میں شہریوں کی ڈیجیٹل کھپت کا حجم 25.3 ٹریلین یوان تک پہنچ گیا، جس میں سالانہ بنیاد پر 8.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ملک کے نیٹ ورک بنیادی ڈھانچے میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ 2025 کے اختتام تک چین میں فائیو جی بیس اسٹیشنوں کی مجموعی تعداد 48 لاکھ 38 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ ملک کے دو تہائی شہروں نے گیگا بٹ سٹی کے معیار کو حاصل کر لیا ہے ۔
Trending
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز
- چین اور یورپ کے درمیان تجارتی مشاورت کا مقصد اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنا ہے، چینی وزارت تجارت