بیجنگ :جاپان اکنامک نیوز کے مطابق، چینی کمپنیوں اور جامعات کے تحقیق و ترقی کے مجموعی اخراجات پہلی بار امریکہ سے تجاوز کر گئے ہیں اور چین دنیا میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ جاپان کی وزارت تعلیم، ثقافت، کھیل، سائنس اور ٹیکنالوجی کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ "سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انڈیکیٹرز 2026 ” کے مطابق، 2024 میں چین کے تحقیق و ترقی کے اخراجات 97.1 ٹریلین جاپانی ین تک پہنچ گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13.1 فیصد زیادہ ہیں۔ اسی عرصے میں امریکہ کے تحقیق و ترقی کے اخراجات 95.3 ٹریلین ین رہے۔”سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انڈیکیٹرز” ہر سال جاپان کی وزارت تعلیم، ثقافت، کھیل، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماتحت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ 2026 کا ایڈیشن 2024 کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین میں "کمپیوٹر، الیکٹرانک اور آپٹیکل مصنوعات کی تیاری ” کے شعبے میں تحقیق و ترقی کی سرمایہ کاری میں خاص طور پر نمایاں اضافہ ہوا ہے۔جاپانی میڈیا کے مطابق، چین 2017 میں، سائنسی تحقیقی مقالوں کی تعداد کے اعتبار سے امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا میں پہلے نمبر پر آ گیا تھا۔ اعلیٰ معیار کے تحقیقی مقالوں کے حوالے سے بھی چین کی پوزیشن مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ 2018 میں دنیا کے سب سے زیادہ حوالہ دیے جانے والے 10 فیصد تحقیقی مقالوں میں چین کی تعداد امریکہ سے زیادہ رہی۔ اب تحقیق و ترقی کے اخراجات میں بھی امریکہ کو پیچھے چھوڑنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ واقعی چین عالمی سائنسی و تکنیکی تحقیق کے میدان میں دنیا میں پیش پیش ہے۔
Trending
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز
- چین اور یورپ کے درمیان تجارتی مشاورت کا مقصد اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنا ہے، چینی وزارت تجارت