بیجنگ :اپیک انرجی تھنک ٹینک فورم دالیان میں منعقد ہوا، جس میں اپیک کی 16 رکن معیشتوں، بین الاقوامی تنظیموں، تھنک ٹینکس اور تحقیقی اداروں سے تعلق رکھنے والے 100 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے اتفاق کیا کہ ایشیا پیسیفک کی معیشتوں کو ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے رکاوٹوں کو مزید دور کرنا چاہیے ، توانائی کے تحفظ اور سبز منتقلی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنا چاہیے، اہم بنیادی ٹیکنالوجیز میں مشترکہ تحقیق و جدت کو مضبوط بنانا چاہیےا ور توانائی کی علاقائی مارکیٹ کے باہمی ربط کو فروغ دینا چاہیے جس سے ایک کھلے اور مضبوط ایشیا پیسیفک توانائی کے تحفظ کے نظام کی بنیاد مستحکم کی جا سکے گی ۔ فورم میں” چین-اپیک توانائی تعاون کے نئے سفر کا آغاز : توانائی کے تعاون کے ذریعے ایشیا پیسیفک کی مشترکہ خوشحالی کا فروغ "کے عنوان سے ایک رپورٹ بھی جاری کی گئی۔رپورٹ کے مطابق، 1991 میں اپیک میں شمولیت کے بعد سے چین نے مسلسل مختلف رکن معیشتوں کی توانائی کی ترقی کی حکمت عملیوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی ہے۔ یہ تعاون روایتی توانائی اور نئی توانائی سمیت متعدد شعبوں تک پھیل چکا ہے، جبکہ سرمایہ کاری، تجارت اور انفراسٹرکچر پر مشتمل پوری صنعتی چین کا احاطہ کرتا ہے۔ اس تعاون کے ذریعے چین نے خطے میں توانائی کے مشترکہ تحفظ اور پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اعداد وشمار کے مطابق ،رواں سال کے پہلے 7 ماہ میں، چین اور اپیک کی دیگر معیشتوں کے درمیان درآمدات و برآمدات کا کل حجم 18.03 ٹریلین یوآن تک پہنچ چکا ہے ، جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہے۔
Trending
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز
- چین اور یورپ کے درمیان تجارتی مشاورت کا مقصد اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنا ہے، چینی وزارت تجارت