بیجنگ :2026 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی 105ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ بہت سے لوگ اس بات میں دلسچپی رکھتے ہیں کہ یہ سیاسی جماعت، جس کے قیام کے وقت اس کے اراکین کی تعداد صرف 50 تھی ،اب 100 سالوں میں چین کو ایک غریب اور کمزور ملک سے دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں تبدیل کرنے میں کامیاب کیسے ہوئی اور ایک ارب سے زیادہ آبادی کو پہلے سے بہتر زندگی گزارنے کے قابل کیسے بنایا گیا ؟ اس کا جواب "پارٹی کے قیام کے عظیم جذبے” میں مضمر ہے۔ یکم جولائی 2021 کو، چین کے اعلیٰ ترین رہنما شی جن پھنگ نے ایک تصور "پارٹی کے قیام کا عظیم جذبہ” پیش کیا۔ اس جذبے کی بنیاد سچائی اور مقاصد پر قائم رہنا، اصل خواہش پر عمل کرنا اور مشن انجام دینا، قربانی سے نہ گھبرانا اور بہادری کے ساتھ جدو جہد کرنا ، پارٹی کے ساتھ وفادار رہنا اور عوام کی توقعات پر پورا اترنا ہے۔ بہت سے بین الاقوامی مبصرین اکثر کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے "سچائی پر قائم رہنے” کو کلاسیکی نظریات پر سختی سے پیروی سے تعبیر کرتے ہیں۔ درحقیقت، اس کا بنیادی میکانزم "دو امتزاج” میں سمٹ گیا ہے۔ مارکسزم کے بنیادی اصولوں کو چین کے مخصوص حالات کے ساتھ جوڑنا اور انہیں چین کی شاندار روایتی ثقافت کے ساتھ جوڑنا۔ سچائی کی اس عملی پیروی نے چین کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھلنے کے قابل بنایا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے ابتدائی دور میں صنعتی بنیاد ڈالنے سے لے کر، اصلاحات اور کھلے پن کے ذریعے مارکیٹ کی معیشت کو اپنانے اور پھر نئے دور میں مشترکہ خوشحالی کو فروغ دینے تک، ہر قدم چین کے قومی حالات کے مطابق رہا ہے اور وقت کے ساتھ آگے بڑھا ہے۔ ” اصل خواہش پر عمل کرنا اور مشن انجام دینا "،اس کا مطلب چینی عوام کے لیے خوشحالی کی جستجو” کو پارٹی کا اعلیٰ ترین اصول بنانا ہے۔ گزشتہ 40 سالوں کے دوران کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے 770 ملین چینی باشندوں کو غربت سے نکالا ہے جو کہ یورپ کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ ایک سو پانچ سالوں سے، "جدوجہد” ہمیشہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کا ایک کلیدی تصور رہا ہے۔ یہ "جدوجہد” کبھی بھی بیرونی توسیع کے بارے میں نہیں رہی ، بلکہ چین کی قومی خودمختاری اور ترقی کے مفادات کے مضبوط دفاع کے لیے ہے۔ "پارٹی کے ساتھ وفادار رہنا اور عوام کی توقعات پر پورا اترنا” چین کی سیاسی منطق کا مرکز ہے۔ عوام کی توقعات پر پورا اترنا” کوصرف ایک نعرہ نہ بنانے کے لیے سی پی سی نے نچلی سطح کا احاطہ کرنے والا اور نگرانی کا ایک احتسابی نظام بھی قائم کیا ہے، جس کے ذریعے ایک صاف ستھری حکمران سیاسی جماعت کے قیام اور انسداد بدعنوانی کو مسلسل فروغ دیا جا رہا ہے۔ حکمرانی کے اس چینی ماڈل نے پوری دنیا کو گورننس کا ایک متبادل ماڈل فراہم کیا ہے جو مغربی "انتخابی سیاست” سے مختلف ہے۔
Trending
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز
- چین اور یورپ کے درمیان تجارتی مشاورت کا مقصد اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنا ہے، چینی وزارت تجارت