بیجنگ :بھارت کی وزارت داخلہ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ متنازع سرحدی علاقوں اور چین کے زیر انتظام علاقوں میں 28 علاقوں کے معیاری ناموں کا تعین کیا گیا ہے اور بھارت کے سرکاری نقشے میں انہیں شامل بھی کیا گیا ہے ۔اس حوالے سے چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِینگ نے معمول کی پریس کانفرنس میں اس معاملے پر کہا کہ چین، بھارت کی جانب سے یک طرفہ اور غیر قانونی طور پر قائم کیے گئے نام نہاد "مرکزی زیرِ انتظام علاقے لداخ” کو کبھی تسلیم نہیں کرتا اور بھارت کی جانب سے نام نہاد "معیاری جغرافیائی ناموں” کے اعلان کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام غیر قانونی اور بے اثر ہے اور اس سے اس تاریخی حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی کہ چین بھارت سرحد کے مغربی حصے کا علاقہ ہمیشہ سے چین کا حصہ رہا ہے۔
Trending
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز
- چین اور یورپ کے درمیان تجارتی مشاورت کا مقصد اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنا ہے، چینی وزارت تجارت