بیجنگ : جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں منعقدہ یونیسکو کے 48ویں عالمی ثقافتی ورثہ اجلاس میں چین کی جانب سے پیش کیے گئے "جنگ دہ زن کے روایتی چینی مٹی کے برتنوں کی صنعت کے آثار” کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں باضابطہ طور پر شامل کر لیا گیا۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی "ہزار سالہ چینی مٹی کا شہر” کے نام سے معروف یہ تاریخی و ثقافتی شہر چین کا 61واں عالمی ثقافتی ورثہ بن گیا۔یہ پہلا موقع ہے کہ چین نے "صنعتی ورثے” کے زمرے میں کسی منصوبے کو عالمی ثقافتی ورثے کے لیے کامیابی سے رجسٹر کرایا ہے۔ اس اندراج نے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں چینی مٹی (پورسلین) سے متعلق ورثے کی موجودگی کا خلا بھی پُر کر دیا ہے۔اس کے ساتھ ہی ریشم، چائے اور چینی مٹی کے برتن، جو قدیم چین کے بیرونی دنیا کے ساتھ تجارتی اور ثقافتی روابط کے تین اہم ذرائع سمجھے جاتے ہیں، اب عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں مکمل طور پر نمائندگی حاصل کر چکے ہیں۔
Trending
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز
- چین اور یورپ کے درمیان تجارتی مشاورت کا مقصد اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنا ہے، چینی وزارت تجارت