بیجنگ :امریکی محکمۂ دفاع نے "مسئلہ پیدا کرنے والی سرگرمیوں میں ملوث غیر ملکی تحقیقی اداروں کی فہرست” (1286 فہرست) کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے چند چینی سائنسی تحقیقی اداروں کو اس میں شامل کر دیا ۔ اس حوالے سے بدھ کے روز چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے صحافیوں کے سوال کے جواب میں کہا کہ چین اس اقدام پر شدید اعتراض اور سخت مخالفت کا اظہار کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ امریکہ مسلسل قومی سلامتی کے تصور کو بلاجواز وسعت دے رہا ہے، جان بوجھ کر امتیازی رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے، اور سائنسی و تحقیقی تعاون کو سیاسی ہتھیار اور دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اس طرزِ عمل سے چین اور امریکہ کے درمیان سائنسی تحقیق کے شعبے میں تبادلوں اور تعاون میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے، جو عالمی سائنسی، تکنیکی اور اختراعی تعاون کے رجحان کے سراسر خلاف ہے۔ترجمان نے کہا کہ چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ چینی تحقیقی اداروں کی بے بنیاد بدنامی کا سلسلہ بند کرے، اپنی غلط پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے، اور چینی تحقیقی اداروں کے ساتھ منصفانہ، غیر جانب دارانہ اور بلاامتیاز سلوک یقینی بنائے۔ چین اپنے تحقیقی اداروں کے قانونی اور جائز حقوق و مفادات کے تحفظ اور معمول کے سائنسی تعاون و تبادلوں کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرتا رہے گا۔
Trending
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز
- چین اور یورپ کے درمیان تجارتی مشاورت کا مقصد اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنا ہے، چینی وزارت تجارت