بیجنگ :چین کی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے امریکہ کی جانب سے چینی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے خلاف تحقیقات شروع کرنے اور پابندیاں عائد کرنے کے ممکنہ منصوبے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا ہے کہ چین ہمیشہ سے اس بات کی مخالفت کرتا آیا ہے کہ امریکہ سائنس و ٹیکنالوجی اور اقتصادی و تجارتی امور کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے، بے بنیاد الزامات کے ذریعے چینی کمپنیوں کو بدنام کرے اور ان پر پابندیاں عائد کرے۔امریکہ اس حقیقت کو نظر انداز کر رہا ہے کہ چینی مصنوعی ذہانت کے متعدد لارج ماڈلز کی ریلیز امریکی جدید ماڈلز کے تقریباً اسی عرصے میں ہوئی، جبکہ بعض چینی ماڈلز کی صلاحیتیں پہلے ہی عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر چکی ہیں۔ اس کے باوجود امریکہ چینی کمپنیوں پر نام نہاد "ماڈل ڈسٹلیشن” اور "امریکی دانشورانہ املاک کی چوری” جیسے الزامات عائد کر کے ان کے خلاف دباؤ اور پابندیوں کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ تو حقائق پر مبنی ہیں، نہ ہی ان کے لیے کوئی قانونی جواز موجود ہے، جبکہ عملی طور پر امریکہ دوہرے معیار کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ یہ رویہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں غلبے کی پالیسی کی ایک واضح مثال ہے۔ترجمان نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ چینی کمپنیوں کو بدنام کرنے اور ان کے خلاف پابندیوں کی دھمکیاں دینا بند کرے۔ اگر چین کے مفادات کو کسی بھی عملی اقدام کے ذریعے نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو چین اپنے جائز اور قانونی حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
Trending
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز
- چین اور یورپ کے درمیان تجارتی مشاورت کا مقصد اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنا ہے، چینی وزارت تجارت