اقوام متحدہ :اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے سن لے نے سلامتی کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے امور کا کنٹرول خود مشرق وسطیٰ کے ممالک کے پاس ہونا چاہیے۔ سن لے نے کہا کہ چین عرب لیگ کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے میں سلامتی کونسل اور علاقائی سلامتی کے امور میں زیادہ سے زیادہ کردار ادا کرنے میں عرب لیگ کی حمایت کرتا ہے اور ساتھ ہی علاقائی مسائل کو علاقائی ذرائع سے حل کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے موجودہ سیکورٹی ڈھانچے میں خامیاں ہیں اور اس میں اصلاح اور بہتری کی ضرورت ہے۔ سن لے نے کہا کہ چین مشترکہ، جامع ،تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے تصور کو برقرار رکھنے اور مشرق وسطیٰ میں ایک نئے سیکورٹی ڈھانچے کی تشکیل میں علاقائی ممالک کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ، مشرق وسطیٰ کے عوام کا ہے اور اس کے سیکورٹی امور کا کنٹرول خود مشرق وسطیٰ کے ممالک کے پاس ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے نے کہا کہ چین امن و سلامتی پر بات چیت کو بہتر بنانے، علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کی تشکیل نو اور اپنے مستقبل اور تقدیر کو مضبوطی سے سنبھالنے میں علاقائی ممالک کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطیٰ کے مسائل کا مرکز ہے۔ عالمی برادری کو "دو ریاستی حل” کو نافذ کرنے اور جلد از جلد ایک آزاد فلسطینی مملکت کے قیام کے لئے ناقابل واپسی اقدام کرنا چاہیے۔
Trending
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز
- چین اور یورپ کے درمیان تجارتی مشاورت کا مقصد اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنا ہے، چینی وزارت تجارت