بیجنگ :چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیا کھون نے معمول کی پریس کانفرنس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین ہمیشہ تعمیری اور ذمہ دارانہ رویے کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی میں حصہ لیتا ہے اور مسلسل چینی حل پیش کر رہا ہے۔ چین کا مستقل مؤقف ہے کہ اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے منصفانہ اور معقول عالمی مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کا نظام تشکیل دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ چین امریکہ کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے متعلق بین الحکومتی مکالمے سمیت مختلف ذرائع کے ذریعے رابطہ اور تبادلۂ خیال برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔ یہ نہ صرف عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی مثبت اور سب کے لیے فائدہ مند ترقی کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے بلکہ "احترام، انصاف اور برابری کی بنیاد پر تعمیری اسٹریٹجک استحکام پر مبنی چین۔امریکہ تعلقات” قائم کرنے کا بھی تقاضا ہے۔
Trending
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز
- چین اور یورپ کے درمیان تجارتی مشاورت کا مقصد اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنا ہے، چینی وزارت تجارت