اقوام متحدہ : اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فو چھونگ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں "کیوبا کے خلاف امریکہ کی اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی ناکہ بندی کے خاتمے کی ضرورت ہے” کے موضوع پر بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کیوبا کی ناکہ بندی اور اس پر دباؤ ڈالنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے۔فو چھونگ نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے کیوبا پر غیر قانونی اقتصادی ناکہ بندی اور یکطرفہ اقتصادی پابندیاں 60 سال سے زائد عرصے سے جاری ہیں اور اب بھی ان میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں "کیوبا کے خلاف امریکہ کی اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی ناکہ بندی کے خاتمے کی ضرورت ہے” کے معاملے پر مسلسل 34 مرتبہ بحث ہو چکی ہے، لیکن متعلقہ قراردادوں پر آج تک عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ چین ایک بار پھر امریکہ سے پُرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کیوبا کی ناکہ بندی اور اس پر دباؤ فوری طور پر ختم کرے۔ کیوبا کے خلاف امریکہ کی اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی ناکہ بندی ختم کرنے سے متعلق قرارداد پر فوری عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔ فو چھونگ نے مزید کہا کہ ہر ملک کو اپنے قومی حالات کے مطابق سماجی نظام اور ترقی کا راستہ آزادانہ طور پر منتخب کرنے کا حق حاصل ہے۔ کیوبا کے مستقبل اور تقدیر کا فیصلہ صرف کیوبا کے عوام ہی کر سکتے ہیں۔ کسی بھی ملک کو پابندیاں زبردستی مسلط کرنے، اپنے عزائم اور ترقی کا راستہ دوسروں پر تھوپنے، فوجی دھمکیاں دینے یا عدالتی اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے کیوبا پر دباؤ ڈالنے کا حق حاصل نہیں ہے۔
Trending
- چائنا میڈیا گروپ نے رئیل میڈرڈ کا معافی نامہ موصول ہونے کی تصدیق کر دی
- سوئٹزرلینڈ کے صدر گائی پارملین چین کا دورہ کریں گے، چینی وزارت خارجہ
- چین کا امریکہ پر کیوبا کی ناکہ بندی اور دباؤ فوری ختم کرنے پر زور
- چین کا امریکہ اور ایران پر جنگ بندی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے زور
- چین، کینٹن فیئر کے دوسرے مرحلے کا اختتام
- چین اور برازیل کے تعلقات کی طویل المدتی نوعیت مزید نمایاں ہوئی ہے، چینی صدر
- چینی صدر کا جاپان کے سابق وزیرِ اعظم فوکوڈا یاسوؤ کے اہلِ خانہ کے نام تعزیتی پیغام
- چین عالمی توانائی کی منتقلی میں اہم شراکت دار ہے، بین الاقوامی قابلِ تجدید توانائی ایجنسی
- چین تاریخی حقائق کا تحفظ برقرار رکھے گا، چینی وزارتِ خارجہ
- چین مصنوعی ذہانت کے دور کے سوال کا جواب”روزگار دوست ترقی کے طریقہ کار”سے دیتا ہے ، چینی میڈیا