بیجنگ :یونائیٹڈ نیشنز فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج (UNFCCC) کے اگزیکٹیو سیکرٹری سائمن اسٹیل نے چین کا دورہ کیا اور چائنا میڈیا گروپ کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے پائیدار ترقی میں چین کے حاصل کردہ ثمرات کو سراہا۔اسٹیل نے کہا کہ چین نے کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے بہت محنت کی ہے جو انتہائی قابلِ ستائش ہے۔ چین کا تجربہ بہت سے ممالک کے لیے مثال بن سکتا ہے۔ گزشتہ دس سالوں میں چین کی ترقی کا جائزہ لیں تو سبز اور کم کاربن والی معیشت کی طرف منتقلی کی رفتار اور اس میں کی گئی سرمایہ کاری حیرت انگیز ہے۔ یہ منتقلی نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہے بلکہ معیشت کے لیے نئے امکانات بھی لے کر آ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ چین کی اس وسیع، تیز رفتار اور بڑے پیمانے پر تبدیلی نے جدت کو مسلسل فروغ دیا ہے اور لاگت میں کمی کی ہے، جس کا فائدہ دنیا کے دیگر ممالک کو بھی پہنچ رہا ہے۔ اسٹیل کا کہنا تھا کہ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ برقی گاڑیوں کی صنعت میں زبردست ترقی ہو رہی ہے، جبکہ شمسی توانائی اور ہوا کی توانائی کے شعبوں میں بھی تیزی سے وسعت ہو رہی ہے ۔ یہ تبدیلیاں بڑی حد تک چین کی قیادت میں رونما ہو رہی ہیں اور عالمی برادری اس سے مستفید ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین کی اعلیٰ قیادت کا سیاسی عزم قابلِ تقلید ہے۔ چین کی جانب سے کیے گئے تمام وعدے نہ صرف پورے کیے جاتے ہیں بلکہ اکثر اوقات ان سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی جاتی ہے۔ یہ سیکھنے کی پہلی بات ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ سیاسی عزم کو حقیقت میں کیسے بدلا جائے ۔ خواہ وہ تبدیلی کے لیے درکار اہم ٹیکنالوجیز پر تحقیق و ترقی کے لیے فنڈز مختص کرنا ہو، جدت کو بڑے پیمانے پر استعمال میں لانا ہو، یا پھر مقامی مارکیٹ کی ترقی اور مصنوعات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہو،ان تمام پہلوؤں سے چین سے سبق سیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ، روزگار کے مواقع کیسے پیدا کیے جائیں، معاشی نمو کو کیسے فروغ دیا جائے اور عوام کی زندگیوں میں بہتری کیسے لائی جائے،ان تمام شعبوں میں چین کا ایک واضح اور مؤثر ترقیاتی ماڈل موجود ہے جسے دیگر ممالک اپنا سکتے ہیں۔اسٹیل نے مزید کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ذریعے ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی اقدامات، توانائی کی تبدیلی اور دیگر متعلقہ شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ یہ ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ چین وعدے پورے کرتا ہے۔ گلوبل ساؤتھ میں یہ باہمی تعاون تمام ممالک کے لیے تعاون سے مشترکہ ترقی کے حصول میں ایک مثال فراہم کرتا ہے۔
Trending
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز
- چین اور یورپ کے درمیان تجارتی مشاورت کا مقصد اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنا ہے، چینی وزارت تجارت