بیجنگ :چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ سائنسی اور تکنیکی اختراعات کے فروغ کے لیے چین کی بنیادی حکمتِ عملی مصنوعی پابندیوں کے بجائے ہمیشہ کھلے پن، تعاون اور باہمی مفاد پر مبنی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین مصنوعی ذہانت اور ایمبائیڈڈ انٹیلی جنس جیسے جدید شعبوں میں تبادلے اور تعاون جاری رکھنے کے لیے دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے، تاکہ "چین میں تخلیق” اور "چین میں ذہانت” حقیقی معنوں میں مشترکہ ترقی کے محرکات میں تبدیل ہوں اور سائنسی و تکنیکی جدت کے ثمرات سے پوری انسانیت زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکے۔وا ضح رہے کہ عالمی روبوٹ کانفرنس 2026 بیجنگ میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ چینی ساختہ روبوٹس نے 100 میٹر دوڑ اور مردوں کی ہائی جمپ سمیت متعدد عالمی ریکارڈز قائم کیے، جس نے عالمی توجہ حاصل کی۔
Trending
- چینی صدر کا ہوانگ چی ہائی نیچر ریزرو کا دورہ
- چینی وزیراعظم لی چھیانگ ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچ گئے
- چینی صدر کے دورۂ اندرونی منگولیا کے دوران کمپیوٹنگ پاور صنعت کا جائزہ لینے کے اہم مقاصد
- چین، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کے لیے معیارات کا عالمی فریم ورک جاری کر دیا گیا
- چین کی ترقی کا تجربہ پوری دنیا کے لیے بیش قیمت ہے ، صدر بوٹسوانا
- چائنا میڈیا گروپ کے معیاری پروگراموں کی زے چیانگ میں نشریات کے آغاز کی تقریب
- چین میں "فلم دیکھیں، کھیلوں میں حصہ لیں” مہم کا آغاز
- چین، کینٹن فیئر کی جدید مصنوعات غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز
- عالمی روایتی طب کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں آغاز
- چین اور یورپ کے درمیان تجارتی مشاورت کا مقصد اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنا ہے، چینی وزارت تجارت